Latest Peace Posts
-
اللہ کے سوا کوئ عبادت کے لائق نہیں لیکن زمانہ قدیم سے اور آج تک انسان اللہ کی پرستش کرُرہا ہے عبادت نہیں ۔ پوجا پاٹ ہو یا اللہ کے نام پر کچھ خیرات کردینا اسکو لوگوں نے عبادت سمجھ لیا ہے ۔ جبکہ اصل عبادت تو ہے دل کی رضامندی سے اللہ کے احکامات پرُعمل کرنا ہر دور میں چند بڑے لوگ آپس میں گڑھ جوڑ کر لیتے ہیںاور اللہ کی مخلوق کوُاپنے مفاد کے حساب سے استمعال کرتے ہیں ۔ کیونکہ سب بڑے لوگ آپس میں ملے ہوۓ ہوتے ہیں اسلیۓ کمتر لوگوں کو انصاف بھی نہیں ملتا اور وہ جھک کر رہ جاتے ہیں آہستہ آہستہ انکے ذہن انکی غلامی کرنے لگتے ہیں
یہی ہر دور میں ہوا ہے اور آج بھی ہو رہاُئے جیسے ہمارا وڈیراُشاہی یا جاگیر داروں کا نظام ہو ۔ سرمایہ دار ہو یا صنعتکار ۔ سیاستدانوں کی سازشیں۔افسر شاہی ہو سیاستدان ۔ یہ سب آپس میں میل جول کر کے امیر سے امیر ہوجاتے ہیں اور دوسرا طبقہ انکی غلامی کر کر کے غریب سے غریب تر ہو جاتا ہے ۔
ان دونوں طبقوں کے درمیان والا گروہ ہامان کی طرہح مفاد پرست ہوجاتا ہے انھیں میں سے کوئ کبھی انبیا ء کی پیروی کرتے ہوئے حق کے لئے آواز اٹھاتا ہے تو یہ سارے مل کر اسکی آواز کو دبا دیتے دیتے ہیں ۔اسکوُااس بری طرح سے کچلا جاتا ہے تاکہ کوئ آیندہ ایسی۔ کوشش نہ کرے ۔ جیسا آج کے دور میں پاکستان میں عمران خان کیساتھ ہو رہا ہے۔
آج کے دور کا انسان باشعور تو ہے پر باہمت نہیں ۔کیونکہ وہ جانتا ہے کے حق کے لئے آواز اٹھانا ۔ انصاف کی راہ پر چلنا بہت کٹھن ہے۔ کیونکہ اگر وہ ایسی کوشش کرے بھی تو سب سے پہلے نشانہ اسکاُخاندان ہوتا ہے ۔ ہم نبی ابراہیم کی طرح مضبوط اور با ہمت نہیں ہیں کہ اپنی اولاد کو تکلیف میں ڈالیں۔ ہم خود توُتکلیفُاٹھا سکتے ہیں لیکن اپنے چاہنے والوں کو تکلیف نہیں دے سکتے۔
اور یہی ہماری کمزوری ہے ہم چاہ کر بھی انکی پیروی نہیں کرپاتے۔ اللہ کے انبیاء و رسولوں نے اور انکے ساتھیوں نہ دین حق کوُایسی بہت سی قربانیوں کے بعد ہی قائم کیاُ تھا۔
اللہ ہم پر رحم فرمایا اور ہمکو ہمت و حوصلہ دے کے ہم اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں ۔ کیونکہ اگر ہم اپنے اآپ کو مسلم و مومن کہتے ہیں تو بندگی صرف اللہ کی ہے ۔ڈرنا ہے تو صرف اللہ سے ڈریں۔
اور حق کے لئے کھڑے ہوں !!!
-
اللہ کے سوا کوئ عبادت کے لائق نہیں لیکن زمانہ قدیم سے اور آج تک انسان اللہ کی پرستش کرُرہا ہے عبادت نہیں ۔ پوجا پاٹ ہو یا اللہ کے نام پر کچھ خیرات کردینا اسکو لوگوں نے عبادت سمجھ لیا ہے ۔ جبکہ اصل عبادت تو ہے دل کی رضامندی سے اللہ کے احکامات پرُعمل کرنا ہر دور میں چند بڑے لوگ آپس میں گڑھ جوڑ کر لیتے ہیںاور اللہ کی مخلوق کوُاپنے مفاد کے حساب سے استمعال کرتے ہیں ۔ کیونکہ سب بڑے لوگ آپس میں ملے ہوۓ ہوتے ہیں اسلیۓ کمتر لوگوں کو انصاف بھی نہیں ملتا اور وہ جھک کر رہ جاتے ہیں آہستہ آہستہ انکے ذہن انکی غلامی کرنے لگتے ہیں
یہی ہر دور میں ہوا ہے اور آج بھی ہو رہاُئے جیسے ہمارا وڈیراُشاہی یا جاگیر داروں کا نظام ہو ۔ سرمایہ دار ہو یا صنعتکار ۔ سیاستدانوں کی سازشیں۔افسر شاہی ہو سیاستدان ۔ یہ سب آپس میں میل جول کر کے امیر سے امیر ہوجاتے ہیں اور دوسرا طبقہ انکی غلامی کر کر کے غریب سے غریب تر ہو جاتا ہے ۔
ان دونوں طبقوں کے درمیان والا گروہ ہامان کی طرہح مفاد پرست ہوجاتا ہے انھیں میں سے کوئ کبھی انبیا ء کی پیروی کرتے ہوئے حق کے لئے آواز اٹھاتا ہے تو یہ سارے مل کر اسکی آواز کو دبا دیتے دیتے ہیں ۔اسکوُااس بری طرح سے کچلا جاتا ہے تاکہ کوئ آیندہ ایسی۔ کوشش نہ کرے ۔ جیسا آج کے دور میں پاکستان میں عمران خان کیساتھ ہو رہا ہے۔
آج کے دور کا انسان باشعور تو ہے پر باہمت نہیں ۔کیونکہ وہ جانتا ہے کے حق کے لئے آواز اٹھانا ۔ انصاف کی راہ پر چلنا بہت کٹھن ہے۔ کیونکہ اگر وہ ایسی کوشش کرے بھی تو سب سے پہلے نشانہ اسکاُخاندان ہوتا ہے ۔ ہم نبی ابراہیم کی طرح مضبوط اور با ہمت نہیں ہیں کہ اپنی اولاد کو تکلیف میں ڈالیں۔ ہم خود توُتکلیفُاٹھا سکتے ہیں لیکن اپنے چاہنے والوں کو تکلیف نہیں دے سکتے۔
اور یہی ہماری کمزوری ہے ہم چاہ کر بھی انکی پیروی نہیں کرپاتے۔ اللہ کے انبیاء و رسولوں نے اور انکے ساتھیوں نہ دین حق کوُایسی بہت سی قربانیوں کے بعد ہی قائم کیاُ تھا۔
اللہ ہم پر رحم فرمایا اور ہمکو ہمت و حوصلہ دے کے ہم اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں ۔ کیونکہ اگر ہم اپنے اآپ کو مسلم و مومن کہتے ہیں تو بندگی صرف اللہ کی ہے ۔ڈرنا ہے تو صرف اللہ سے ڈریں۔
اور حق کے لئے کھڑے ہوں !!!
-
اللہ کے سوا کوئ عبادت کے لائق نہیں لیکن زمانہ قدیم سے اور آج تک انسان اللہ کی پرستش کرُرہا ہے عبادت نہیں ۔ پوجا پاٹ ہو یا اللہ کے نام پر کچھ خیرات کردینا اسکو لوگوں نے عبادت سمجھ لیا ہے ۔ جبکہ اصل عبادت تو ہے دل کی رضامندی سے اللہ کے احکامات پرُعمل کرنا ہر دور میں چند بڑے لوگ آپس میں گڑھ جوڑ کر لیتے ہیںاور اللہ کی مخلوق کوُاپنے مفاد کے حساب سے استمعال کرتے ہیں ۔ کیونکہ سب بڑے لوگ آپس میں ملے ہوۓ ہوتے ہیں اسلیۓ کمتر لوگوں کو انصاف بھی نہیں ملتا اور وہ جھک کر رہ جاتے ہیں آہستہ آہستہ انکے ذہن انکی غلامی کرنے لگتے ہیں
یہی ہر دور میں ہوا ہے اور آج بھی ہو رہاُئے جیسے ہمارا وڈیراُشاہی یا جاگیر داروں کا نظام ہو ۔ سرمایہ دار ہو یا صنعتکار ۔ سیاستدانوں کی سازشیں۔افسر شاہی ہو سیاستدان ۔ یہ سب آپس میں میل جول کر کے امیر سے امیر ہوجاتے ہیں اور دوسرا طبقہ انکی غلامی کر کر کے غریب سے غریب تر ہو جاتا ہے ۔
ان دونوں طبقوں کے درمیان والا گروہ ہامان کی طرہح مفاد پرست ہوجاتا ہے انھیں میں سے کوئ کبھی انبیا ء کی پیروی کرتے ہوئے حق کے لئے آواز اٹھاتا ہے تو یہ سارے مل کر اسکی آواز کو دبا دیتے دیتے ہیں ۔اسکوُااس بری طرح سے کچلا جاتا ہے تاکہ کوئ آیندہ ایسی۔ کوشش نہ کرے ۔ جیسا آج کے دور میں پاکستان میں عمران خان کیساتھ ہو رہا ہے۔
آج کے دور کا انسان باشعور تو ہے پر باہمت نہیں ۔کیونکہ وہ جانتا ہے کے حق کے لئے آواز اٹھانا ۔ انصاف کی راہ پر چلنا بہت کٹھن ہے۔ کیونکہ اگر وہ ایسی کوشش کرے بھی تو سب سے پہلے نشانہ اسکاُخاندان ہوتا ہے ۔ ہم نبی ابراہیم کی طرح مضبوط اور با ہمت نہیں ہیں کہ اپنی اولاد کو تکلیف میں ڈالیں۔ ہم خود توُتکلیفُاٹھا سکتے ہیں لیکن اپنے چاہنے والوں کو تکلیف نہیں دے سکتے۔
اور یہی ہماری کمزوری ہے ہم چاہ کر بھی انکی پیروی نہیں کرپاتے۔ اللہ کے انبیاء و رسولوں نے اور انکے ساتھیوں نہ دین حق کوُایسی بہت سی قربانیوں کے بعد ہی قائم کیاُ تھا۔
اللہ ہم پر رحم فرمایا اور ہمکو ہمت و حوصلہ دے کے ہم اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں ۔ کیونکہ اگر ہم اپنے اآپ کو مسلم و مومن کہتے ہیں تو بندگی صرف اللہ کی ہے ۔ڈرنا ہے تو صرف اللہ سے ڈریں۔
اور حق کے لئے کھڑے ہوں !!!
Our Mission
The Peace System provides practical peace education for youth, families, and schools. We offer skills in dialogue, conflict resolution, and collaboration that strengthen communities.



Contact Us
Do you have any video suggestions related to peace, rights, or service? Please email your ideas to sofiakhan1608@gmail.com. Your messages are read and may be used to help plan future content.
Please Note: Only the site owner can publish videos or blog posts on this website. Visitor suggestions via email are welcome, but they will not be automatically published on the site.