آج کی مصروف زندگی میں، صبح سے شام تک ہم مسائل میں الجھے رہتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان مسائل کو حل کرنے کے لیے ہمیں سوچنا بھی پڑتا ہے، تو پھر کوئی یہ کیسے کہہ سکتا ہے کہ ہم سوچتے ہی نہیں؟
شاید آپ کے دل میں یہ خیال آ رہا ہو کہ یہ سب بھرے پیٹ کی فلسفیانہ باتیں ہیں۔
لیکن یقین کریں، ہم واقعی میں نہیں سوچتے۔ اگر ہم حقیقت میں سوچ رہے ہوتے تو خود کو اتنے مسائل میں نہ الجھاتے۔
آپ مانیں یا نہ مانیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم اندھی تقلید کر رہے ہیں۔ اگر آج آپ چند لمحوں کے لیے آنکھیں بند کر کے صرف یہ سوچیں کہ آپ کو کس چیز سے حقیقی خوشی اور سکون ملتا ہے—اور یہ نہ سوچیں کہ لوگ کیا کہیں گے—تو یقین جانیں، آپ کا دل ہلکا اور پرسکون ہو جائے گا۔
بدقسمتی سے ہم نے اپنی زندگی کا مقصد ہی یہ بنا لیا ہے کہ لوگ کیا کہیں گے۔ ہم اپنی زندگی دوسروں کے بنائے ہوئے معیار کے مطابق گزار رہے ہیں، حالانکہ ہمیں اپنی زندگی اپنے سکون اور خوشی کے مطابق گزارنی چاہیے۔
کبھی کبھی ہم لوگوں کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی لمحاتی خوشی کے لیے خود کو مشکل میں ڈال لیتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم یہ ضرور سوچیں کہ ہمیں آنے والی زندگی میں پرسکون رہنا ہے یا نہیں۔
یہ ماننا پڑے گا کہ عمر کے ساتھ زندگی کی خوشیوں کے دائرے کبھی بڑھتے ہیں اور کبھی گھٹتے ہیں، لیکن شرط یہ ہے کہ خوشی وہی اچھی ہے جو آگے چل کر پریشانی کا سبب نہ بنے۔ اسی لیے سوچنا بہت ضروری ہے۔
یہ بھی سوچیں کہ کہیں اپنی خوشی کی خاطر ہم کسی کو تکلیف تو نہیں دے رہے۔ کیونکہ اگر ہم اپنی خوشی کے لیے کسی کو دکھ دیں گے تو اللہ تعالیٰ ہم سے ناراض ہو جائیں گے، اور اگر اللہ ناراض ہو گیا تو ہم اپنی اخروی زندگی کی دائمی خوشی سے محروم ہو جائیں گے۔
لہٰذا اپنی پوری کوشش اخروی زندگی کو بہتر بنانے میں لگائیں۔ یقین رکھیں، اس کا اثر آپ کی دنیاوی زندگی پر بھی پڑے گا اور وہ بھی بہتر ہو جائے گی۔
پس ضرور سوچیں کہ وہ کون سے اعمال ہیں جو ہماری اخروی زندگی کو کامیاب بناتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی ہدایت کی کتاب میں واضح فرمایا ہے:
“نیکی یہ نہیں کہ تم اپنے چہرے مشرق یا مغرب کی طرف پھیر لو، بلکہ نیکی تو اس کی ہے جو اللہ پر، یومِ آخرت پر، فرشتوں پر، کتاب پر اور نبیوں پر ایمان لائے، اور اپنا مال—محبت کے باوجود—رشتہ داروں، یتیموں، محتاجوں، مسافروں اور مانگنے والوں پر خرچ کرے، اور غلاموں کو آزاد کرانے میں لگائے، اور نماز قائم کرے، زکوٰۃ دے، اور جب عہد کرے تو اسے پورا کرے، اور تنگی، تکلیف اور جنگ کے وقت صبر کرنے والا ہو۔ یہی لوگ سچے ہیں اور یہی متقی ہیں۔”
(القرآن، سورۃ البقرۃ: 177)
تو ضرور سوچیں کہ ہدایت ملنے کے باوجود ہم کیا کر رہے ہیں۔
کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم لمحاتی خوشی کی خاطر اپنی آنے والی زندگی کو مشکلات میں ڈال رہے ہوں؟
اللہ آپ کا حافظ و ناصر ہو۔
اسی موضوع کے ساتھ پھر ملاقات ہوگی: ہم سوچتے کیوں نہیں؟
Leave a comment