تخلیق مقصد

وہ ذات جو واحد ہے، یکتا ہے، اور الخالق ہے؛ جس نے اس پوری کائنات کو تخلیق کیا۔

میری پہلی پوسٹ “لا الہ” کے عنوان سے تھی، اور اسے دیکھ کر شاید بہت سے لوگوں نے یہی سوچا ہوگا:

“اوہ! وہی اسلامی بیان یا لیکچر!!”

تو میں وضاحت کر دوں کہ میرا بلاگ اُن لوگوں کے لیے ہے جن کے ذہن کشادہ ہیں، جو کسی بھی قسم کے تعصبات — چاہے وہ رنگ، نسل، مذہب، فرقہ، زبان یا مرد و زن کے فرق پر مبنی ہوں — کو نہیں مانتے۔

جن کی نظر میں تمام انسان برابر ہیں۔

اپنی تخلیق پر غور کریں۔

اپنا جائزہ لیں۔

تجزیہ کریں کہ آپ کے خالق نے آپ کو کیوں تخلیق کیا ہے؟

جس الخالق نے ہر چیز کو ایک مقصد کے ساتھ تخلیق کیا ہے، تو پھر آپ کی تخلیق کا مقصد کیا ہے؟

تو کھوج لگائیں!

یہ تو طے ہے کہ ہر چیز کو ایک دن فنا ہونا ہے۔

ہمارے کتنے ہی چاہنے والے آج ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں، اور اسی طرح ایک دن ہمیں بھی اس دنیا سے رخصت ہونا ہے۔

تو جانے سے پہلے کیوں نہ یہ جان لیں کہ ہم پیدا کیوں ہوئے ہیں؟

ہمارے اندر کون سی صلاحیتیں ہیں اور کس چیز کی کمی ہے؟

اگر صلاحیتیں ہیں تو اُن کا استعمال کس طرح کریں کہ ہم دیگر مخلوقات کے لیے سلامتی کا سبب بن سکیں؟

اور اگر کمی ہے تو کیا اُس پر روتے رہیں؟

یا اُس کمی کو دور کریں؟

یا کم از کم یہ کوشش کریں کہ اُس کمی کی وجہ سے نہ خود کو نقصان پہنچائیں اور نہ حسد، جلن یا بغض میں دوسروں کو اذیت دیں؟

فیصلے کا اختیار ہمیں دیا گیا ہے!

اپنی ذات کی صلاحیتوں کو پہچانیں، اُن میں نکھار پیدا کریں، اور بغیر کسی غرض کے اُنہیں استعمال میں لا کر دوسروں کی زندگی میں سکون اور اطمینان کا باعث بنیں۔

رحمت بنیں، زحمت نہیں!

جب رحمتیں ملی ہیں تو اُن کا ناجائز استعمال کر کے دوسروں کو تکلیف نہ دیں، نہ ہی اُن کی زندگی کو عذاب بنائیں۔

اپنی صلاحیتوں کے مطابق اپنے پیشے اور کام کا انتخاب کریں۔

کوئی بھی کام برا نہیں ہوتا — یہ صرف لوگوں کی سوچ ہے، اور ہم ہر ایک کی سوچ نہیں بدل سکتے۔

تو اُن سوچوں پر مٹی ڈالیں اور آگے بڑھیں، اپنی منزل کی طرف قدم بڑھائیں۔

میری اس پوسٹ کو پڑھتے ہوئے بہت سے لوگ شاید یہی سوچ رہے ہوں گے:

“اِسے کیا پتا؟ اسے کیا اندازہ!”

“ہم تو عام انسان ہیں جو دو وقت کی روٹی اور جینے کے لیے کتنی مشقتیں اٹھاتے ہیں!”

تو یقین رکھیں، میرا تعلق بھی اُسی طبقے سے ہے جو یہ سب کچھ جھیل رہا ہے۔

زندگی کے پچپن سال گزارنے کے بعد اب میں یہ سوچ رہی ہوں کہ جن صلاحیتوں کے ساتھ مجھے تخلیق کیا گیا تھا، کیا میں نے اُن کا صحیح استعمال کیا یا نہیں؟

الخالق نے مجھے یہ صلاحیت بھی عطا کی کہ میں لکھ سکتی ہوں،

تو میں نے سوچا کیوں نہ اسے استعمال کروں،

اپنے ہم عمروں کی ہمت بندھاؤں،

اور اپنی آنے والی نسلوں کو یہ پیغام دوں کہ:

اٹھ! کمر باندھ، کیوں ڈرتا ہے؟

بیشک فیصلہ کرنے کا اختیار تمہیں دیا گیا ہے۔

الخالق نے تمہیں خاص صلاحیتوں سے نوازا ہے۔

اب یہ تم پر ہے کہ تم چار دن کی زندگی صرف کھانے پینے اور عیش میں گزار دیتے ہو،

یا ایک خاص انسان بن کر اپنی صلاحیتوں کے ذریعے دوسروں کے لیے سلامتی کا سبب بنتے ہو۔

فیصلہ تمہیں کرنا ہے!

اللہ آپ کا حافظ و ناصر ہو۔

Leave a comment